آئی ایم ایف سے حکومت نے شروع میں ہی مذاکرات ٹھیک نہیں کیے، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین

سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت نے 13.25 فیصد شرح اور 165 روپے کا ڈالر کرکے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا۔ بجلی، گیس،پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر طلب بیٹھ گئی، مہنگائی اور بیروزگاری میں بےپناہ اضافہ ہوگیا، آئی ایم ایف کو بتانا چاہیے کورونا حالات میں عوام پر بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے شروع کے دنوں میں ہی غلطیاں کیں، سوچ تھی کہ شروع میں فرنٹ لوڈڈکردیا جائے تاکہ بعد میں تبدیلیاں نہیں کرنی پڑیں گی۔
یہ سوچ نہیں ہونی چاہیے تھی، ضروری تھا کہ گروتھ ریٹ 5.5فیصد سرکلر ڈیبٹ کو سپورٹ کررہی تھی،اس برقرار رکھنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہیے تھے۔اس کے ساتھ آپ نے شرح سود کو سوا تیرہ فیصد کردیا اور روپے کی قدر گرا کرڈالر 165 ڈالر کردیا جس سے آپ نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔اس سے قیمتیں بڑھ گئیں، پھر بجلی،گیس،پیٹرول سب کی قیمتیں بڑھا کر ڈیمانڈ ہی بٹھادی اور مہنگائی اور بیروزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔

شوکت ترین نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ شروع کے دنوں میں ہی مذاکرات ٹھیک نہیں کیے گئے۔ اب ہم اس میں پھنسے ہوئے ہیں، ہم 500 ملین ڈالر بھی لے چکے ہیں۔اگر ہم بوجھ برداشت نہیں کرسکتے تھے تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس پھر جانا ہوگا اور بتانا ہوگا کہ ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ کورونا دنوں میں پوری دنیا عوام کو ریلیف دے رہی ہے، لیکن ہم اپنی عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں، ہمیں ہر وہ کام کرنا چاہیے جو قومی مفاد میں ہو، میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکل جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جس طرح 2019 میں آئی ایم ایف کے کہنے سے بھی زیادہ شرح سود بڑھائی اور زیادہ شرح سود پر قرضے کی ری پروفائلنگ کردی اس نے معیشیت کی کمر توڑدی۔ اس سے 1500ارب سے زیادہ کا سالانہ سود کا بوجھ ڈال دیا۔یہ آنے والے سالوں میں بھگتنا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے