مظاہرین کے تشدد، لاہور میں ایک اور کانسٹیبل شہید ہوگیا

لاہور میں مذہبی جماعت کے احتجاجی مظاہرین کے تشدد سے ایک اور کانسٹیبل شہید ہوگیا، کانسٹیبل علی عمران مظاہرین کے تشدد سے شدید زخمی ہوگیا تھا، لیکن دوران علاج میوہسپتال میں دم توڑ گیا۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق مذہبی جماعت کے احتجاجی مظاہرین کے تشدد سے شہید ہونے والے پولیس جوانوں کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔
جبکہ مظاہرین سے جھڑپوں میں زخمی جوانوں کی تعداد اب تک 97 ہوگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کانسٹیبل علی عمران مظاہرین کے تشدد سے شدید زخمی ہوگیا تھا، لیکن دوران علاج میوہسپتال میں دم توڑ گیا۔ اسی طرح اس سے قبل آج شاہدرہ میں مظاہرین کے پتھراؤ اوت تشدد سے پولیس کانسٹیبل افضل شہید ہوئے تھے۔ جس پر سربراہ تحریک لبیک کیخلاف انسداد دہشتگردی اور قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، شاہدرہ ٹاؤن میں درج مقدمے میں دیگر کارکنان کو بھی نامزد کیا گیا، مقدمہ قتل، اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر(سی سی پی او) لاہور غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہے کہ لاہور میں شاہدرہ میں مظاہرین کے پتھراؤ سے پولیس کانسٹیبل افضل شہید ہوگئے جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ اور تشدد سے 74 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ان میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں۔ مظاہرین کیخلاف مقدمات درج کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ مزید برآں پنجاب حکومت نے لاہور کے بعد مختلف اضلاع میں رینجرز طلب کرلی، محکمہ داخلہ پنجاب نے رینجرز کی خدمات کیلئے وفاقی حکومت کو خط ارسال کردیا ہے، امن وامان کیلئے رحیم یارخان، چکوال، شیخوپورہ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، جہلم ، ملتان اور بہاولپور رینجرز خدمات مانگی ہیں۔
وفاقی وزیر فواد چودھری کا کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے امن وامان کی خاطر لاہور کے بعد مختلف اضلاع راولپنڈی، گوجرانوالہ، جہلم ، ملتان اور بہاولپور رینجرزتعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے