خدارا مجھے آکسیجن سلنڈر واپس کر دو میری ماں کی حالت خطرناک ہے۔ بھارتی شہری کی پولیس کے آگے دہائیاں

کورونا کی تیسری لہر نے ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں جس قسم کی قیامت صغریٰ برپا کر رکھی ہے۔ لوگوں سے اور اپنے خاندان سے یہی کہنے کو دل کرتا ہے کہ خدارا احتیاط کیجیے ایس او پیز پر عمل کیجیے اور کورونا کو خود دعوت مت دیجیے وگرنہ اس وبا نے ایسی اَت مچانی ہے کہ شاید دعاؤں کا اثر بھی نہ ہو۔
بھارت میں آکسیجن کی کمی کا معاملہ پیش آ گیااور لوگوں کی بداحتیاطی کی وجہ سے وائرس نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو متاثر کرنا شروع کر دیاہے۔جس کے باعث میتوں کو کاندھا دینے والوں کی بھی کمی ہوتی جا ہی ہے۔اس وقت سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس سے متعلق یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر یہ ویڈیو ممبئی کے علاقے کی ہے جہاں ایک شخص نے اپنی بیمار والدہ کے لیے بڑی مشکل سے آکسیجن سلنڈر کا بندوبست کر رکھا تھا مگر کسی وی آئی پی شخص کو سلنڈر کی ضرورت تھی اور پولیس اس مڈل کلاس شخص کے گھر گئی اور ریڈ کرتے ہوئے سلنڈر اٹھا لیا کیونکہ وہ کسی امیر ترین شخص کو ضرورت تھا جس کے پاس آکسیجن نہیں تھا۔ اس پر وہ شخص روتا اور رہا اور پولیس والوں کے پاؤں بھی پڑ گیا کہ خدارا یہ آکسیجن سلنڈر اس نے بڑی مشکل سے لیا ہے اور ا سکی ماں کی طبیعت درست نہیں ہے اور اسے آکسیجن کی ضرورت ہے اس لیے آکسیجن سلنڈر مت لے جائیے مگر پولیس نے اس روتے بلکتے شخص کی ایک نہ سنی اور آکسیجن سلنڈر اٹھا کر چلتی بنی۔ یاد رہے کہ انڈیا میں مسلمان بڑے پیمانے پر اپنے دیش باسیوں کی مدد کرتے نظر آ رہے ہیں انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایک مسلمان شخص نے اپنے اثاثے بیچ کر آکسیجن کے کئی ٹن ٹینکرز خریدے اور کورونا مریضوں کو عطیہ کر دیے جبکہ ایک مسلمان نوجوان نے اپنی قیمتی گاڑی بیچ کر آکسیجن سلنڈر خرید کر عطیہ کر دی جبکہ دوسری طرف انڈین پولیس ہے جس نے اپنے ہی ملک کے ایک شخص کی والدہ کو لگے آکسیجن سلنڈر کو اٹھا کر کسی امیر کی جھولی میں ڈال دیااور غریب کی ماں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا یہ ہے مودی کا انڈیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے