پشاور میں چار افراد نے نوجوان کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا

چار افراد نے نوجوان کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ خزانہ کی حدود مقصودہ آباد میں چار افراد نے ٹیلر ماسٹر کے 16 سالہ شاگرد کو زبردستی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔سولہ سالہ اللہ متاثرہ نوجوان نے تھانہ خزانہ پولیس کو بتایا کہ گزشتہ روز کام کے لیے گیا تو دکان بند تھی، وہ اپنے استاد کا انتظار کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا پڑوسی کبیر آیا اور اسے موٹر سائیکل لانے کے لیے رنگ روڈ پر واقع پلازہ میں لے گیا۔
جہاں پہلے سے تین افراد موجود تھے۔وہاں کبیر اور اس کے تین ساتھیوں نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں چھوڑ دیا۔پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل پشاور میں ہی بق تھانہ تہکال کی حدود میں نان بائی نے دوست کی مدد سے اپنے کم عمر ملازم کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور اس کی قابل اعتراض ویڈیوز بھی بنائی۔

15 سالہ عثمان نے پولیس کو بتایا کہ میں سمیع اللہ کے ساتھ اس کے نان بائی کی دکان میں شاگرد ہوں۔ سمیع اللہ اسے اپنے ساتھ دوسری دکان کی صفائی کے بہانے لے گیا اور وہاں پر پر دو افراد کی مدد سے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔اس دوران سمیع اللہ نے اس کے ساتھ زیادتی کی اور عبداللہ ان کی ویڈیو بناتا رہا ہاں۔دونوں نے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شدید زخمی کر دیا ۔
مذکورہ بچے کو طبی امداد کیلئے اسپتال پہنچایا گیا۔دوسری جانب بچوں اور خواتین کے ساتھ ذیادتی کیسزکے بعد پشاور سمیت صوبے بھر میں اضلاع کی سطح پر اینٹی ریپ کرئسز سیل تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر اینٹی ریپ کرائسز سیل کا سربراہ ہو گا جو اینٹی ریپ آرڈیننس پر عمل درآمد کمیٹی کے ماتحت کام کریگی ۔ اینٹی ریپ آرڈیننس پر عمل درآمد کے لئے 42اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیدی ہے کمیٹی کے ماتحت اینٹی ریپ کرائسز سیل زیادتی سے متاثرہ افراد کی معاونت کریگی اینٹی ریپ کرائسز سیل ہر ڈسٹرکٹ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بنایا جائے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے