کورونا کی تیسری لہرخطرناک ہے، عید پر سخت احتیاط کی ضرورت ہے ، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون پر عوام سے براہ راست بات چیت کے دوران کہا کہ کوروناکی پہلی اور دوسری لہر میں قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا ، اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور ہم پہلی اور دوسری لہر سے کامیابی کے ساتھ نکلے ، لیکن کورونا کی تیسری لہر بہت خطرناک ہے ، ہندوستان کےحالات سب کے سامنے ہے ، ہندوستان میں لوگ سڑکوں پر مر رہے ہیں ، آکسیجن کی کمی ہے ، بھارت کے ہسپتالوں کے حالات دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ، بنگلہ دیش میں بھی کیسز تیزی سے اوپر جارہے ہیں، خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں کیسزتیزی سےاوپرنہیں جارہے ، لیکن عیدکی چھٹیوں میں ہمیں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم سےاپیل ہے کہ ماسک پہنیں اورسماجی فاصلے پرعمل کریں ، خاص طور پر عید کی چھٹیوں میں ماسک لازمی پہنیں اور لوگوں کو کورونا سے بچائیں ، ایس اوپیزپرعمل کریں کہ لاک ڈاوَن نہ کرناپڑے کیوں کہ لاک ڈاوَن سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی حوالے سے سربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا کہ کورونا سے اموات کا خطرہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے ، پاکستان میں 40 سال سے کم عمر افراد کی کورونا سے موت کی شرح ایک فیصد سے کم ہے، اسی طرح 41 سے 50 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 1 اعشاریہ 8 فیصد ، 51 سے 60 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 3 اعشاریہ 8 فیصد اور 61 سے 70 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 7 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ 61 سے 70 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 7 اعشاریہ 2 فیصد ، 71 سے 80 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 11 اعشاریہ 1 فیصد ہے ، 80 سال سے زائد عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 15 فیصد سے زائد ہوجاتی ہے ، ملک میں 40 سال سے کم عمر کی آبادی 77 فیصد ہے جس کی کورونا سے شرح اموات 9 فیصد ہے ، 60 سال سے زائد عمر کی آبادی صرف 7 فیصد ہے جس میں کورونا سے شرح اموات 53 فیصد ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے