غصے میں آکر غزہ میں بلند عمارتوں پر بمباری کی،اسرائیلی پائلٹ کا اعتراف

اسرائیل کے ایک پائلٹ نے میڈیا پر آکر اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی فوجی حکمت عملی میں ناکامی پر غصے میں آکر غزہ میں بلند عمارتوں پر بمباری کی تھی۔پائلٹ کا کہنا ہے کہ ناکامی کے باعث فوج تلملا رہی تھی سب پاگل ہوگئے تھے اور مایوسی بڑھ رہی تھی جسے دور کرنے کے لیے غزہ میں بلند رہائشی اور کمرشل عمارتوں کو نشانہ بنایا۔
ہم نے ٹنوں کے حساب سے بارود پھینکا، آگ اور بارود کی بارش کر دی لیکن اس کے باوجود ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ کامیابی نہیں مل رہی۔ہم فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کو روک پا رہے تھے نہ ان کی قیادت کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو رہے تھے تو ہم نے جھنجلاہٹ اور غصے میں آ کر رہائشی عمارتوں کو تباہ کرنا شروع کیا۔ اسرائیلی کالم نگار گیدون لیوی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی چینلز پر بار بار غزہ کی بلند عمارتوں کو گرتے دکھایا گیا تاکہ انتقامی جذبات کو تسکین دی جا سکے۔

عمارتوں کو گرتا دکھا کر اسرائیل ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ کتنا مضبوط ہے۔لیکن اس تباہی کو بار بار دکھانا دراصل کمزوری کی نشانی ہے۔واضح رہے کہ امریکی جنگ بندی کے لیے امریکا، مصر اور قطر سمیت دیگر یورپی ممالک نے اپنا کردار ادا کیا۔ ان ممالک کی جانب سے غزہ کی خراب صورتحال کے باعث اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور حماس کی قیادت پر کشیدگی ختم کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔
جبکہ پاکستان، ترکی اور دیگر کچھ اسلامی ممالک سمیت اہم یورپی ممالک کی جانب سے بھی بھرپور دباو ڈال کر اسرائیل کو سیز فائر کرنے پر مجبور کیا گیا۔ تاہم سیز فائر ہونے سے قبل ہی گزشتہ 11 روز کے درمیان اسرائیلی اپنی ریاستی دہشت گردی کے ذریعے درجنوں معصوم فلسطینوں کو شہید اور ہزاروں افراد کے گھر تباہ کر چکا۔ اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 240 سے زیادہ ہے، جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے