پی ٹی آئی حکومت کی کاوشیں رنگ لے آئیں

رواں مالی سال کئی معاشی اہداف حاصل ہوتے ہوئے نظر آئے، حکومت آئندہ بجٹ میں معیشت کو ڈگر پر لانے کے لیے کئی بڑے فیصلے کرنے کا بھی اردہ رکھتی ہے۔ مالی سال 21-2020ء کے دس ماہ میں ملکی برآمدات 14 فیصد اضافے سے 20 ارب 90 کروڑ ڈالر رہی جس میں صرف ٹیکسٹائل برآمدات 17 فیصد اضافے سے 12 ارب 69 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
دس ماہ کے دوران ترسیلات زر 29 فیصد اضافے سے 24 ارب 24 کروڑ ڈالر اور جاری کھاتے 77 کروڑ ڈالر سرپلس رہے اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 26 فیصد اضافے سے 15 ارب 59 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ دس ماہ میں پٹرول کی کھپت 12 فیصد اضافے سے 67 لاکھ میٹرک ٹن رہی، ڈیزل کی کھپت 20 فیصد اضافے سے 61 لاکھ میٹرک ٹن، فرنس آئل کی کھپت 48 فیصد اضافے سے 24 لاکھ میٹرک ٹن رہی جبکہ دس ماہ میں بجلی کا استعمال 7 فیصد اضافے سے 102852 گیگا واٹ رہا۔ دس ماہ میں گاڑیوں کی فروخت 37 فیصد اضافے سے ایک لاکھ 34 ہزار، کھاد کی فروخت 10 فیصد اضافے سے 50 لاکھ میٹرک ٹن، سیمنٹ کی کھپت 19 فیصد اضافے سے 4 کروڑ 82 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے سال کے آخری مہینے ( جون ) میں 790ارب کا ٹیکس جمع کرنا ہوگا جو بظاہر نا ممکن ہے۔ مالی سال 2020ء-21 کے ابتدائی 9 ماہ ( جولائی تا مئی) کے دوران ایف بی آر کا جمع کردہ ٹیکس 17.4 فیصد اضافے سے 41 کھرب 70 ارب روپے رہا۔ خیال رہے کہ کووڈ 19کی وجہ سے معاشی سست روی کے پیش نظر آئی۔ حکومت یا ٹیکس حکام کا ٹیکس کلیکشن میں کردار بہت محدود ہے۔ مجموعی ٹیکس کلیکشن میں براہ راست ٹیکسوں کا حصہ گذشتہ برس کے 37.2 فیصد سے گر کر 35.3 فیصد ہوگیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے