گرمی کی شدت کے باعث سکولوں میں بچے نڈھال ہونے لگے

گرمی کی شدت کے باعث سکولوں میں بچے نڈھال ہونے لگے، گورنمنٹ جونیئر ماڈل سکول میں 2 بچوں کی حالت غیر ہوگئی ، بچوں کے ناک سے خون بہنے لگا، جس پر اساتذہ نے ان کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی۔ تفصیلات کے مطابق جون کی آگ برساتی گرمی میں جہاں بڑے افراد کا گھروں سے باہر نکلنا محال ہورہا ہے، وہاں بچوں کیلئے سکولوں میں گرم کمروں میں بیٹھنا اور پھر آگ برساتی گرمی میں گھروں کو واپس آنا معصوم بچوں کیلئے شدید پریشانی کا باعث ہے۔
لیکن اس کے باوجود پہلی تا کلاس آٹھویں کے بچے جن کا تعلیمی سیشن اگست میں شروع ہونا ہے، ان کے امتحانات کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، پھر بھی ان کو محکمہ تعلیم اور سکول انتظامیہ کے احکامات کی باعث سکولوں میں جانا پڑ رہا ہے، محکمہ تعلیم کی جانب سے سکولوں کے اوقات کار کے حوالے سے ابھی تک کوئی واضح ٹائم ٹیبل بھی جاری نہیں کیا گیا، بعض بوائز اور خواتین سکولوں میں تو پرنسپل ہی سیکرٹری، سی ای او اور ڈی ای او بنے بیٹھے ہیں، سکولوں میں صبح کے اوقات میں کلاسز پڑھانے کی بجائے دن 12 بجے اور بعض سکولوں میں ایک بجے تک کلاسز پڑھائی جاتی ہیں، بچوں کا اتنے طویل وقت کیلئے کلاسز میں بیٹھنا بھی مشکل ہوگیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ بھی ہورہی ہے، جبکہ جن سکولوں میں سیکنڈ فلور پر کلاس رومز ہیں وہاں تو بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے۔ جون کا ابھی پہلا ہفتہ جاری ہے لیکن گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گورنمنٹ جونیئر ماڈل سکول ماڈل ٹاؤن میں 2 بچوں کی حالت غیر ہوگئی ہے۔ بچوں کے ناک سے خون بہنے لگا، جس پر اساتذہ نے ان بچوں کے سروں پر فوری ٹھنڈا پانی ڈالا اوران کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی۔ اساتذہ نے محکمہ تعلیم پنجاب سے مطالبہ کیا کہ کلاسز کے اوقات کار میں مزید کمی کی جائے، تاکہ بچے صبح کے اوقات میں ہی کلاسز پڑھ کر واپس گھروں کو جاسکے۔
یاد رہے پاکستان میں پہلی بار گرمیوں کی چھٹیوں کی بجائے جون کے سخت ترین مہینے میں سکول کھول دیے گئے ہیں۔ اس سے قبل یکم جون سے چودہ اگست تک موسم گرما کی تعطیلات کردی جاتی تھیں۔ بچے شدید گرمی کا موسم گھروں میں گزارتے اور صبح وشام کے اوقات میں اپنی تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رکھتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے